سائٹس کھولیں · مفت پراکسی · سائٹ منتخب کریں
X، ٹک ٹاک، یوٹیوب، وکیپیڈیا، واٹس ایپ ویب، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر بلاک شدہ سائٹس کے لیے مفت ویب پراکسی — بغیر انسٹال، بغیر رجسٹریشن۔
آپ لنک پیسٹ کرتے ہیں، ہم اپنے کسی ریجن (فری پلان میں تین، Pro کے ساتھ پانچ) کے ذریعے صفحہ لاتے ہیں، پھر صفحہ آپ کے ٹیب میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ آپ کا مقامی نیٹ ورک صرف ہم سے ایک انکرپٹڈ کنکشن دیکھتا ہے — وہ سائٹ نہیں جو آپ کھول رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے صفحہ کھل جائے مگر لاگ اِن، کالز، ویڈیو یا دوسری خصوصیات کام نہ کریں؛ منزل سائٹ کی سیکیورٹی جانچ بھی رسائی روک سکتی ہے۔ 15 اور 16 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں یوٹیوب کی عام ویڈیوز (Shorts نہیں)، وکیپیڈیا اور ٹیلیگرام چینلز کے پری ویو کام کرتے رہے، جبکہ انسٹاگرام اور X لاگ اِن کے بغیر محدود رہے۔ Netflix اور Disney+ جیسی سبسکرپشن اسٹریمنگ سپورٹ نہیں، اور پراکسی آواز و ویڈیو کالز منتقل نہیں کرتا۔ ایک سائٹ کا کھلنا دوسری سائٹ کے کھلنے کی ضمانت نہیں۔
چونکہ AnyProxy ایک ویب سائٹ ہے، یہ وہاں چلتی ہے جہاں انسٹال ممکن نہیں: منتظم شدہ Chromebook، آفس لیپ ٹاپ، کیفے ڈیوائسز، اُدھار لیے گئے فون۔ ٹیب کھولیں، لنک پیسٹ کریں، اور کام ختم ہو جائے تو ٹیب بند کر دیں۔ ہٹانے کے لیے کچھ نہیں۔
اردو گائیڈز
اوپر والے خانے میں کسی بھی سائٹ کا پتہ لکھیں۔ مطابقت سائٹ اور فیچر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے — یہ فہرست صرف وہ سائٹس دکھاتی ہے جن کی اردو گائیڈ موجود ہے۔
X (پرانا ٹوئٹر) پاکستان میں اب کھلا ہے۔ 17 فروری 2024 کو لگنے والی پابندی تقریباً 15 ماہ بعد 7 مئی 2025 کو ختم ہوئی۔ اگر پھر بھی آپ کے کنکشن پر x.com نہیں کھلتا تو AnyProxy اسے پاکستان سے باہر کے سرور سے لوڈ کر کے آپ کے براؤزر ٹیب میں دکھاتا ہے۔
X عام انتخابات کے کچھ دن بعد، 17 فروری 2024 کو بند ہوا۔ مہینوں تک حکومت نے سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا۔ بعد میں عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں وزارت داخلہ نے تسلیم کیا کہ بلاک کا حکم اسی نے دیا تھا، اور وجوہات میں قومی سلامتی کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ X نے 2021 کے آن لائن مواد کے قواعد کے تحت پاکستان میں رجسٹریشن نہیں کرائی۔
پابندی 7 مئی 2025 کو اچانک ختم ہوئی، اسی رات جب پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی عروج پر تھی، اور صارفین بغیر VPN کے X کھولنے لگے۔ بعد میں PTA کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ X کی معطلی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔
نتائج ملے جلے رہے: 15 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں پروفائل صفحات کبھی خالی رہے اور کبھی جزوی طور پر کھلے، اور لاگ اِن کے بغیر X محدود رہتا ہے۔ X Spaces (آڈیو) پراکسی سے نہیں چلتیں۔ X ایپ پراکسی نہیں ہوتی، اس لیے فون پر Chrome یا Safari میں کھولیں۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: PTA کا ملک گیر بلاک؛ وزارت داخلہ کے حکم پر، اب ختم
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
نہیں۔ X 17 فروری 2024 سے 7 مئی 2025 تک بلاک رہا، اس کے بعد ملک بھر میں کھل گیا۔ اگر آپ کے نیٹ ورک پر اب بھی نہیں کھلتا تو مسئلہ مقامی ہو سکتا ہے۔
وزارت داخلہ نے عدالت میں قومی سلامتی اور X کی جانب سے 2021 کے قواعد کے تحت رجسٹریشن نہ کرانے کو وجہ بتایا۔
نہیں۔ Spaces براہ راست آڈیو کے لیے ویب صفحے سے باہر کے پروٹوکول استعمال کرتی ہیں جو ویب پراکسی سے نہیں گزرتے۔
ٹک ٹاک پاکستان میں اکتوبر 2020 سے اب تک چار بار بند ہو چکا ہے، اور ہر بار مواد ہٹانے کی یقین دہانی پر کھلا۔ آج یہ ملک بھر میں دستیاب ہے۔ اگر اگلی پابندی لگے یا آپ کے کنکشن پر نہ کھلے تو AnyProxy ٹک ٹاک ویب کو براؤزر ٹیب میں کھولتا ہے، بغیر ایپ کے۔
پہلی پابندی 9 اکتوبر 2020 کو PTA نے "غیر اخلاقی مواد" کی بنیاد پر لگائی اور 10 دن بعد اٹھا لی۔ دوسری بار 11 مارچ 2021 کو پشاور ہائی کورٹ نے بند کیا اور یکم اپریل کو کھولا۔ پھر 2021 میں دو بار اور، جن میں آخری جولائی سے نومبر 2021 تک چلی، جب ٹک ٹاک نے مواد کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پابندی کے بغیر بھی ٹک ٹاک پر نگرانی سخت ہے: PTA کے جولائی 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس نے ٹک ٹاک کے 170,231 لنکس بلاک کرائے، جو فیس بک کے بعد کسی بھی پلیٹ فارم کے لیے سب سے زیادہ ہیں۔ یعنی پوری ایپ کھلی رہتی ہے مگر الگ الگ ویڈیوز پاکستان میں نظر نہیں آتیں۔
15 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں Explore اور الگ ویڈیوز چلیں، مگر کچھ پروفائل گرڈز پر خرابی آئی۔ جو ویڈیو PTA کی درخواست پر پاکستان میں چھپائی گئی ہے وہ پاکستان سے باہر کے ریجن میں نظر آ سکتی ہے۔ ٹک ٹاک ایپ پراکسی نہیں ہوتی۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: PTA اور عدالتوں کی عارضی پابندیاں "غیر اخلاقی مواد" کی بنیاد پر؛ ہر بار شرائط پر بحال
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
اکتوبر 2020 سے 2021 کے آخر تک چار بار: دو بار PTA نے، ایک بار پشاور ہائی کورٹ نے، اور جولائی سے نومبر 2021 تک سب سے لمبی پابندی۔
PTA الگ الگ ویڈیوز اور اکاؤنٹس ہٹانے کی درخواست کرتی ہے؛ جولائی 2026 تک ایسے 170,231 لنکس بلاک ہو چکے تھے۔ یہ ویڈیوز صرف پاکستان میں چھپتی ہیں۔
ہم نے لاگ اِن اور اپلوڈ ٹیسٹ نہیں کیے، اس لیے اس کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
وکیپیڈیا پاکستان میں کھلا ہے، مگر فروری 2023 میں PTA نے اسے پہلے 48 گھنٹے سست کیا اور پھر مکمل بلاک کر دیا، جو وزیر اعظم کے حکم پر ختم ہوا۔ اگر کبھی پھر بند ہو تو AnyProxy کسی بھی زبان کا وکیپیڈیا براؤزر ٹیب میں کھولتا ہے۔
یکم فروری 2023 کو PTA نے اعلان کیا کہ وکیپیڈیا نے "توہین آمیز" قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کی درخواست نہیں مانی، اس لیے سروس 48 گھنٹے کے لیے سست کی جا رہی ہے۔ 3 فروری کو Wikimedia Foundation نے تصدیق کی کہ وکیپیڈیا پاکستان میں مکمل بند ہو گیا ہے۔ OONI کی پیمائشوں میں اسی دوران جرمن نشریاتی ادارے DW کی ویب سائٹ بھی بلاک ملی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی بنائی ہوئی پانچ رکنی کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لے کر 6 فروری کو فوری بحالی کا حکم دیا، اور اگلی صبح تک وکیپیڈیا بحال ہو گیا۔
ہر زبان کا وکیپیڈیا، بشمول اردو، پشتو، سندھی اور پنجابی، پراکسی سے پڑھا جا سکتا ہے۔ وکیپیڈیا اکثر پراکسی IPs سے ترمیم روک دیتا ہے، اس لیے صرف پڑھنے کی توقع رکھیں۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: 48 گھنٹے سست کرنے کے بعد مکمل بلاک؛ وزیر اعظم کے حکم پر ختم
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
فروری 2023 میں: یکم فروری کو 48 گھنٹے سست، 3 فروری کو مکمل بند، اور 6 فروری کی رات وزیر اعظم کے حکم پر بحال۔
اکثر نہیں۔ وکیپیڈیا غلط استعمال روکنے کے لیے پراکسی اور ہوسٹنگ IPs سے ترمیم بلاک کرتا ہے۔ پڑھنا ہر حال میں کام کرتا ہے۔
ہاں۔ ur.wikipedia.org سمیت ہر زبان کا وکیپیڈیا اسی طرح کھلتا ہے۔
یوٹیوب پاکستان میں 2016 سے کھلا ہے، مگر اس سے پہلے ساڑھے تین سال مکمل بند رہا، اور 2008 میں پاکستان کی ایک غلطی نے پوری دنیا میں یوٹیوب گرا دیا تھا۔ AnyProxy یوٹیوب کو پاکستان سے باہر کے سرور سے براؤزر ٹیب میں کھولتا ہے، اس لیے پاکستان میں چھپائی گئی ویڈیوز بھی نظر آ سکتی ہیں۔
فروری 2008 میں PTA نے گستاخانہ خاکوں والی ویڈیوز پر یوٹیوب بلاک کرنے کا حکم دیا۔ PTCL نے یہ بلاک ایک BGP روٹ کے ذریعے لگایا جو غلطی سے پوری دنیا میں پھیل گیا، اور تقریباً دو گھنٹے تک دنیا بھر میں یوٹیوب نہیں کھلا۔
ستمبر 2012 میں "Innocence of Muslims" فلم پر یوٹیوب ملک بھر میں بند ہوا اور جنوری 2016 تک بند رہا، جب یوٹیوب کا پاکستانی ورژن آیا جس سے حکومت مخصوص ویڈیوز ہٹانے کی درخواست کر سکتی ہے۔ تب سے یہی طریقہ ہے: PTA کے جولائی 2026 تک کے اعداد کے مطابق یوٹیوب کے 66,290 لنکس بلاک کرائے گئے۔
15 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں عام ویڈیوز آخر تک چلیں، مگر Shorts کھلنے کے بعد ویڈیو کالی رہی۔ گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن ہم نے الگ سے ٹیسٹ نہیں کیا۔ سست کنکشن پر ویڈیو کی کوالٹی 480p یا 720p رکھیں۔ یوٹیوب ایپ پراکسی نہیں ہوتی؛ فون پر Chrome یا Safari میں کھولیں۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: PTA کے احکامات پر الگ الگ ویڈیوز بلاک؛ سیاسی واقعات میں عارضی بندش
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
ستمبر 2012 سے جنوری 2016 تک، "Innocence of Muslims" فلم کی وجہ سے۔ اس سے پہلے فروری 2008 اور مئی 2010 میں بھی مختصر پابندیاں لگیں۔
PTA مخصوص ویڈیوز ہٹانے کی درخواست کرتی ہے اور یوٹیوب انہیں صرف پاکستان میں چھپا دیتا ہے۔ پاکستان سے باہر کا ریجن یہ ویڈیوز دکھا سکتا ہے۔
PTCL نے ملک میں یوٹیوب روکنے کے لیے BGP روٹ بنایا جو اس کے بین الاقوامی پرووائیڈر کے ذریعے پوری انٹرنیٹ پر پھیل گیا، اور یوٹیوب کی ٹریفک تقریباً دو گھنٹے پاکستان کی طرف جاتی رہی۔
واٹس ایپ پاکستان میں بلاک نہیں، مگر بڑے احتجاج کے دنوں میں اس کے سرورز تک رسائی روکی جاتی رہی ہے، جیسے نومبر 2024 میں۔ ایسے وقت میں AnyProxy واٹس ایپ ویب کو براؤزر ٹیب میں کھولتا ہے؛ فون سے QR اسکین کریں اور چیٹ چل پڑتی ہے۔
24 اور 25 نومبر 2024 کو PTI کے احتجاج سے پہلے NetBlocks نے تصدیق کی کہ پاکستان میں واٹس ایپ کے بیک اینڈ سرورز محدود کیے گئے ہیں۔ زیادہ تر انٹرنیٹ پرووائیڈرز پر واٹس ایپ تک رسائی تقریباً صفر تھی، جبکہ PTCL پر آدھی۔ وائس نوٹس اور تصاویر نہ جانا اس کی سب سے عام علامت تھی، حالانکہ عام انٹرنیٹ چل رہا تھا۔
اس سے پہلے 16 اپریل 2021 کو وزارت داخلہ کے حکم پر واٹس ایپ، ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اور ٹیلیگرام چار گھنٹے کے لیے بند کیے گئے تھے۔ دونوں بار پلیٹ فارم مخصوص طور پر روکا گیا، پورا انٹرنیٹ نہیں۔ یہی وہ صورت ہے جہاں ویب پراکسی کام آتی ہے۔
واٹس ایپ ویب کے لیے فون ضروری ہے: web.whatsapp.com پراکسی سے کھولیں اور فون کی واٹس ایپ ایپ سے QR اسکین کریں۔ ہم نے اس کے تمام فیچرز ٹیسٹ نہیں کیے۔ آڈیو اور ویڈیو کالز ویب پراکسی سے نہیں چلتیں۔ اگر موبائل ڈیٹا ہی بند ہو تو کوئی پراکسی مدد نہیں کر سکتی۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: ملک گیر بلاک نہیں؛ نومبر 2024 جیسے موقعوں پر واٹس ایپ کے سرورز تک رسائی محدود
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
نہیں۔ مگر احتجاج کے دنوں میں، جیسے 24 سے 26 نومبر 2024، اس کے سرورز تک رسائی روکی گئی، جس سے وائس نوٹس اور تصاویر نہیں جا رہی تھیں۔
یہ عام طور پر واٹس ایپ کے میڈیا سرورز پر پابندی کی علامت ہے۔ واٹس ایپ ویب کو پراکسی سے کھول کر دیکھیں؛ اس طرح ٹریفک پاکستان سے باہر کے سرور سے گزرتی ہے، مگر ہم نے میڈیا بھیجنا ٹیسٹ نہیں کیا۔
نہیں۔ کالز WebRTC کے ذریعے براہ راست جڑتی ہیں جو پراکسی ٹیب سے نہیں گزرتیں۔
انسٹاگرام پاکستان میں کھلا ہے، مگر مئی 2023 اور نومبر 2024 کے سیاسی بحران میں اس کے سرورز تک رسائی روکی گئی۔ ایسے وقت میں AnyProxy انسٹاگرام ویب کو براؤزر ٹیب میں لوڈ کرتا ہے، بغیر ایپ کے؛ مگر لاگ اِن کے بغیر انسٹاگرام محدود ہے۔
9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پہلے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب بند ہوئے، اور اگلے دن NetBlocks نے بتایا کہ انسٹاگرام کے کچھ سرورز بھی پاکستان سے ناقابل رسائی ہو گئے ہیں۔ تمام پلیٹ فارم 17 مئی تک بحال ہوئے۔
نومبر 2024 میں PTI احتجاج کے دوران انسٹاگرام پر فیڈ ریفریش نہ ہونے اور پیغامات نہ کھلنے کی شکایات آئیں، خاص طور پر کراچی میں۔ PTA کے جولائی 2026 تک کے اعداد کے مطابق انسٹاگرام کے 45,510 لنکس بھی بلاک کرائے گئے ہیں۔
15 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں انسٹاگرام نے لاگ اِن کے بغیر آنے والوں کو لاگ اِن صفحے پر بھیج دیا؛ لاگ اِن کے بعد فیڈ، ریلز اور DM ہم نے ٹیسٹ نہیں کیے۔ انسٹاگرام ایپ پراکسی نہیں ہوتی۔ پاس ورڈ صرف پراکسی میں لوڈ ہوئے اصل instagram.com صفحے پر لکھیں۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: سیاسی واقعات کے دوران انسٹاگرام سرورز تک رسائی محدود؛ الگ پوسٹس PTA کی درخواست پر بلاک
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
نہیں، مگر مئی 2023 اور نومبر 2024 میں سیاسی بحران کے دوران اس تک رسائی عارضی طور پر محدود رہی۔
احتجاج کے دنوں میں یہی علامت دیکھی گئی ہے۔ انسٹاگرام ویب کو پراکسی سے کھول کر دیکھیں؛ اگر وہاں کھلتا ہے تو رکاوٹ شاید آپ کے نیٹ ورک پر ہے۔
انسٹاگرام نئی جگہ سے لاگ ان پر کوڈ مانگ سکتا ہے۔ ہر بار ایک ہی ریجن استعمال کریں تاکہ یہ کم ہو۔
فیس بک پاکستان میں کھلا ہے، مگر یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس کی سب سے زیادہ پوسٹس PTA بلاک کراتی ہے، اور یہ دو بار مکمل بند بھی ہو چکا ہے۔ AnyProxy فیس بک کو پاکستان سے باہر کے سرور سے براؤزر ٹیب میں کھولتا ہے۔
مئی 2010 میں فیس بک پر ایک گستاخانہ مقابلے کے پیج کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر فیس بک تقریباً دو ہفتے بند رہا۔ مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ٹوئٹر اور یوٹیوب کے ساتھ فیس بک بھی کئی نیٹ ورکس پر بند ہوا اور 17 مئی کو بحال ہوا۔
PTA کے جولائی 2026 تک کے اعداد کے مطابق فیس بک کے 230,270 لنکس بلاک کرائے گئے، جو کسی بھی پلیٹ فارم میں سب سے زیادہ ہیں، اور فیس بک نے تقریباً 80 فیصد درخواستوں پر عمل کیا۔ یعنی فیس بک کھلا ہے مگر بہت سا مواد پاکستان میں نظر نہیں آتا۔
15 اکتوبر 2026 کے ٹیسٹ میں ہوم پیج کھلا اور عوامی پیجز لاگ اِن ڈائیلاگ کے پیچھے نظر آئے؛ لاگ اِن کے بعد فیڈ، گروپس اور میسنجر ہم نے ٹیسٹ نہیں کیے۔ میسنجر کالز ویب پراکسی سے نہیں چلتیں۔ فیس بک اور میسنجر ایپس پراکسی نہیں ہوتیں۔
آج کی صورتحال
پابندی کا طریقہ: 2010 میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بلاک؛ 2023 میں سیاسی بحران کے دوران عارضی بندش
آخری جائزہ: 2026-10-07
خود چیک کریں: پاکستان کے اندر سے OONI کے تازہ نتائجOONI ایک اوپن سورس منصوبہ ہے جس سے ملک کے اندر رضاکار انٹرنیٹ پابندیوں کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہ لنک اسی ڈومین کے تازہ ترین ٹیسٹ دکھاتا ہے۔
جب موبائل ڈیٹا ہی معطل ہو، جیسے اگست 2025 میں بلوچستان میں، تو کوئی پراکسی یا VPN کام نہیں کرتا کیونکہ انٹرنیٹ ہی نہیں ہوتا۔ AnyProxy تب مدد کرتا ہے جب انٹرنیٹ چل رہا ہو مگر کوئی خاص سائٹ یا ایپ روکی گئی ہو۔
ہاں، مئی 2010 میں تقریباً دو ہفتے عدالتی حکم پر، اپریل 2021 میں چار گھنٹے، اور مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد تقریباً ایک ہفتہ۔
PTA پوسٹس اور پیجز ہٹانے کی درخواست کرتی ہے؛ جولائی 2026 تک فیس بک کے 230,270 لنکس بلاک ہو چکے تھے۔ یہ مواد صرف پاکستان میں چھپتا ہے۔
میسنجر کے پیغامات ہم نے ٹیسٹ نہیں کیے؛ کالز ویب پراکسی سے نہیں چلتیں۔
Create a free account and we switch on Pro for 3 days, on us. No card, nothing to cancel.
Free stays free. By continuing you agree to the Terms and Privacy Policy.
Account ready
When the pass ends you drop back to Free automatically. Nothing is charged, ever, unless you choose Pro.
You're back on Free: same sites, three regions, ads on our pages. Pro brings back Tokyo, Los Angeles and no ads.
Keep Pro, yearlySecure checkout by Creem
آپ ہمارے مستقل صارف ہیں
آپ نے AnyProxy کو {d} مختلف دنوں میں استعمال کیا ہے۔ Pro اسے تیز، صاف اور دوسروں کے لیے مفت رکھتا ہے۔
$39 سالانہ · صرف $3.25 ماہانہ
کسی بھی وقت منسوخ کریں۔ ہر Pro پلان ان لوگوں کے لیے AnyProxy مفت رکھتا ہے جو ادائیگی نہیں کر سکتے۔
پھر خوش آمدید
فون سے ایک ٹیپ، نہ ایپ اسٹور نہ اکاؤنٹ۔ وہی سائٹ اپنی الگ ونڈو میں۔
Safari میں تین ٹیپ
iPhone پر انسٹال شدہ ایپ کے اندر Pro سائن ان الگ ہوتا ہے۔
پھر خوش آمدید
ٹول بار پر ایک کلک موجودہ سائٹ کو AnyProxy کے ذریعے کھول دیتا ہے۔ Chrome Web Store سے مفت۔
صرف اسٹوریج، کانٹیکسٹ مینو اور ایکٹو ٹیب کی اجازتیں۔ کلک کے علاوہ کوئی ٹریفک نہیں پڑھی جاتی۔
AnyProxy کی اطلاعات کی اجازت دیں؟
ہم ہفتے میں چند سپانسرڈ اطلاعات بھیجتے ہیں۔ یہ AnyProxy کو مفت رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ آپ انہیں کسی بھی وقت اپنے براؤزر میں بند کر سکتے ہیں۔